ڈھور ڈنگر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گائے، بیل، بھینس، بکری وغیرہ۔ "تباہ کن سیلاب جو گھر بار، ڈھور ڈنگر، بستیاں، کھیت، کھلیان سب کچھ بہا کر لے گیا تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ١٢٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'ڈھور' کے ساتھ پراکرت سے ماخوذ 'ڈنگر' ملانے سے مرکب بنا جو اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم مستعمل ہے تحریراً ١٨٧٥ء کو "مقالاتِ شبلی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گائے، بیل، بھینس، بکری وغیرہ۔ "تباہ کن سیلاب جو گھر بار، ڈھور ڈنگر، بستیاں، کھیت، کھلیان سب کچھ بہا کر لے گیا تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ١٢٣ )

جنس: مذکر